دروغ گوئی کی فطرت کو آگ لگ جائے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دروغ گوئی کی فطرت کو آگ لگ جائے
تمھاری دوغلی صورت کو آگ لگ جائے
نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو مار ڈالا ہے
خدا کرے کہ محبت کو آگ لگ جائے
فقیرِ شہر کو فاقہ کشی نے مار دیا
امیرِ شہر کی دولت کو آگ لگ جائے
وفا خرید کے رکھ لو کہیں جو مل جائے
نہ جانے کب یہاں قیمت کو آگ لگ جائے
مآلِ خفتگی دیکھو یہ قوم چیخ رہی
ذہین فکر کی غفلت کو آگ لگ جائے
حقیر سمجھے سبھی کو ذلیل کرتا پھرے
انا پرست کی شہرت کو آگ لگ جائے
بدل سکے نہ عداوت کو جو اخوت سے
تو ایسے لوگوں کی صحبت کو آگ لگ جائے
ترس نہ کھائے جو فاقہ زدوں کی چیخوں پہ
قسی القلب سی غربت کو آگ لگ جائے
چھپا ہو مقصدِ شہرت اگر بھلائی میں
تو ایسی عزت و شہرت کو آگ لگ جائے
فراقِ جاناں سے اسعؔد کا دل ہوا چھلنی
دعاءِ دل ہے کہ ہجرت کو آگ لگ جائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





