ہر اک اپنے انجام سے باخبر ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر اک اپنے انجام سے باخبر ہے
کسی کو یہاں خوف ہے اور نہ ڈرہے
عجب ہیں مسافر عجب رہ گزر ہے
“ازل سے ابد تک سفر ہی سفر ہے”
گزرتے ہیں ہر روز ہم امتحاں سے
جہاں میں یہی قصۂ خشک و تر ہے
سکون اس کو کل بھی نہیں تھا میسر
غریب آدمی آج بھی در بدر ہے
جمعرات یا جمعہ سب ایک سے ہیں
کہاں اب کوئی فرقِ شام وسحر ہے
سبھی کان اور آنکھ والے ہیں لیکن
کوئی بے خبر ہے کوئی با خبر ہے
گنواؤ نہ نفرت میں تم زندگی کو
خدا کی قسم یہ بہت مختصر ہے
جہاں تک نہیں ہے رسائی ہماری
وہیں کے لیے مستقل دردِ سر ہے
نہیں ہے عمل کوئی جھولی میں تیری
تری ہر نصیحت بہت بے اثر ہے
خدا ہی محافظ ہے اب قافلے کا
سحر جو ہے رہ زن وہی راہ بر ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





