جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جوہر دکھا نہ اپنی خیالی اڑان کے

کلام: شمشاد شاد29 مئی، 20201,884قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جوہر دکھا نہ اپنی خیالی اڑان کے
بیٹھے ہیں کل جہان کی ہم خاک چھان کے
مذہب کے نام پر جو نہ بٹتا معاشرہ
ٹکڑے کبھی بھی ہوتے نہ ہندوستان کے
وعدے پہ ان کے کوئی کرے اعتبار کیوں
پابند کب رہے ہیں وہ اپنی زبان کے
رکھا تھا جن کو جان سے اپنی عزیز تر
دشمن بنے ہیں آج وہ میری ہی جان کے
لاشہ ہے وہ ادھوری تمناؤں کا مری
نیچے دبا پڑا ہے جو غم کی چٹان کے
عاشق، فریب خوردہ، وفادار و نامراد
کردار ہیں یہ سارے مری داستان کے
دار و رسن تک آ کے مری داستانِ عشق
آخر کو پوری ہو ہی گئی کھینچ تان کے
واقف نہیں حروف تہجی سے وہ مگر
کہلاتے سرپرست ہیں اردو زبان کے
ہوتا ہے ان پہ نیند میں اشعار کا نزول
سوتے ہیں وہ جو چادرِ افکار تان کے
لینا ہے کام صبر و تحمل سے اب ہمیں
دن آ گئے ہیں شاؔد کڑے امتحان کے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جوہر دکھا نہ اپنی خیالی اڑان کے - دی فری لانسر | دی فری لانسر