آبِ زمزم یا گنگا جل سب چلتا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آبِ زمزم یا گنگا جل سب چلتا ہے
تشنہ لبوں کو گرم یا شیتل سب چلتا ہے
پیٹ کی خاطر مارا مارا پھرے جو اس کو
سوکھی روٹی باسی چاول سب چلتا ہے
وقت تمھاری یاد کے ساتھ بتانا ہو تو
جھرنا، پربت، ندّی، جنگل سب چلتا ہے
یوں تو فریب و غیبت سے نفرت ہے لیکن
چڑھ جاۓ جب پوری بوتل سب چلتا ہے
جس کو اپنے رب کی قدرت پر ہو بھروسہ
اس کو سنیچر، بدھ یا منگل سب چلتا ہے
اندھے کو کیا چاہیے بابا بس دو آنکھیں
پھر وہ اناڑی دے یا اکمل سب چلتا ہے
تم ہی نہیں شاؔد آزارِ الفت میں سب کو
غم کا تکیہ، درد کا کمبل سب چلتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





