ہوگئے ہم جہاں سے بیگانے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہوگئے ہم جہاں سے بیگانے
وحشتوں اور غموں کے دیوانے
اب ہماری کوئی طلب ہی نہیں
حال اپنا تو بس خدا جانے
نیکیاں نامہ سیاہ میں ہیں
جیسے نالی میں کچھ گہر دانے
دوستوں سے وفا کی آس کہاں
ہم تو چت ہوگئے سبھی خانے
تم نظر ہی سے کہہ گئے ہوتے
لفظ سے ماوراء ہیں پروانے
آؤ پی کر کے ہاؤ ہو ہی کریں
کوئی مسجد نہیں ہیں میخانے
شیخ نے عشق کردیا جائز
پاگئے جب دلوں کے نذرانے
اے نئی نسل تم ہی کام کرو
ہم سبھی ہوگئے ہیں افسانے
کاشف اب عشق میں ہی جنت ہے
کوئی مانے یا پھر نہیں مانے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





