جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مسافر مزدور

کلام: سحر محمود19 مئی، 20201,886قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہمارے پاؤں میں چپل نہیں ہے
حقیقت ہے یہ کوئی چَھل نہیں ہے
بہت کچھ ہے سبھی کے پاس لیکن
مصیبت کا ہماری حل نہیں ہے
نہیں کھانے کو کوئی شے میسر
کبھی تو پینے کو بھی جل نہیں ہے
زن و شو، مرد و عورت، بچے، بوڑھے
مسلسل چل رہے ہیں، کل نہیں ہے
کسی کی گود خالی ہے، کسی کو
میسر ماں کا اب آنچل نہیں ہے
یہ جانیں جارہی ہیں روز کتنی
حکومت کی جبیں پر بل نہیں ہے
سبھی ہیں جانبِ منزل روانہ
سلگتی دھوپ ہے بادل نہیں ہے
سفر کی دقتوں کا کچھ نہ پوچھو
کسی کو بھی سکوں اک پل نہیں ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مسافر مزدور - دی فری لانسر | دی فری لانسر