جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غموں کا بوجھ لیے در بدر چلے ہیں ہم

کلام: عبدالمبین محمد جمیل15 مئی، 20201,582قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
غموں کا بوجھ لیے در بدر چلے ہیں ہم
چراغ دہر ہیں سو کو بہ کو جلے ہیں ہم
ضمیر و ظرف کی سودا گری کہاں کرتے
اصول صدق و صفا لے کے جو چلے ہیں ہم
اداس چہرے ہیں منجدھار میں سفینہ ہے
دکھوں میں روز سراپا بہت جلے ہیں ہم
غلط کو صاف کہا ہے غلط ہمیشہ سے
یہی وجہ ہے نظر میں سدا کَھلے ہیں ہم
ہزار صدیوں سے قائم نشاں ہمارا ہے
تفنگ و تیر کے ڈر سے کہاں ٹلے ہیں ہم
محبتوں کے دیے چار سو جلا کرکے
ہر ایک فرد سے لطفًا گلے ملے ہیں ہم
ہے وقت کیسا مبیں بات بات میں سب لوگ
الجھ کے کہتے ہیں بس ایک ہی بھلے ہیں ہم
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غموں کا بوجھ لیے در بدر چلے ہیں ہم - دی فری لانسر | دی فری لانسر