جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مٹے گی تشنگیِ دید تم سے

کلام: سحر محمود9 مئی، 20201,412قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مٹے گی تشنگیِ دید تم سے
مری چھوٹی بڑی ہر عید تم سے
تمھاری چاہ پر ہو خاتمہ بھی
ہوئی ہے جس طرح تمہید تم سے
تمھاری چشم گویا ہوگئی ہے
نہیں جب مل سکی تائید تم سے
ہوئی ہے آشکارا مجھ پہ یارا!
خدا کی ذات اور توحید تم سے
تمھارے روٹھنے پر کی ہے میں نے
ہمیشہ پیار کی تجدید تم سے
کوئی موقع نہیں جاتا ہے خالی
دلا! سیکھے کوئی تنقید تم سے
سحؔر ہے مہرباں یہ جان کر بھی
نہیں کچھ خیر کی امید تم سے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مٹے گی تشنگیِ دید تم سے - دی فری لانسر | دی فری لانسر