رنگ خوشیوں کا بھرگیا شاید
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
طرحی غزل
رنگ خوشیوں کا بھرگیا شاید
وقت مشکل گزر گیا شاید
پہلی سی اب کسک نہیں باقی
حال دل کچھ سنور گیا شاید
وقت درکار ہے پرونے میں
ٹوٹ کر میں بکھر گیا شاید
آپ جب سے بنے نمازی ہیں
حسن یہ اور نکھر گیا شاید
عہد شکنی صفت نہیں اس کی
بے بسی میں مکر گیا شاید
اس کی عزت نہیں بچی دل میں
وہ نظر سے اتر گیا شاید
وقت ماتم جو مسکراہٹ ہے
یعنی اب دل بھی مرگیا شاید
نفرتیں دل میں ہو گئیں پیدا
زہر چھل کام کر گیا شاید
لال کیوں دکھ رہا ہے یہ پانی
آج پھر کوئی مر گیا شاید
اور کوئی نہیں تھا کمرے میں
دیکھ کر خود کو ڈر گیا شاید
جانے کب سے خبر نہیں میری
ایسا لگتا ہے مر گیا شاید
آنکھیں یہ پیار سے ہیں کیوں خالی
آپ کا دل ہی بھر گیا شاید
لازماً بد دعا لگی ہوگی
جیتے جی سو وہ مر گیا شاید
کوئی امید نہ رہی اسعد
”زخمِ امید بھر گیا شاید“
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
A
Aasim As'ad
4 مئی، 2020اتنی ہے کہ
کتنی ہے؟
R
Rashid Mahmoud
9 اپریل، 2020Ghazal itni hai ke





