صبح کا نور ہوں، خوشبوئے پھول ہوں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
صبح کا نور ہوں، خوشبوئے پھول ہوں
میں محبت کی فطرت پہ مجبول ہوں
جیسا چاہے بنا لے مخاطب مجھے
سخت پتھر سا ہوں، نرم سا پھول ہوں
جرم سچ بولنے کا کیا تھا کبھی
آج تک شہر سے اپنے معزول ہوں
اپنے ہی قتل کا مجھ پہ الزام ہے
یعنی قاتل بھی میں، میں ہی مقتول ہوں
بھوک مری گاؤں سے شہر لے آئی ہے
میں مہاجر نہیں، بلکہ منقول ہوں
تنہا مسجد کو کیسے چلا جاؤں میں؟
ماتحت کا بھی اپنے میں مسؤل ہوں
تم نے پرکھا فقط مجھ کو سمجھا نہیں
تھوڑا مشکل تو ہوں، پر میں معقول ہوں
تم کو بھولا نہیں، بات بس یہ ہے کہ
ان دنوں میں پڑھائی میں مشغول ہوں
باوفا ہے تو، یعنی وفا کی دلیل
میں سراپا وفا، یعنی مدلول ہوں
طفلِ مکتب ہوں میں، مجھ کو اقرار ہے
ہاں میں اسلاف کے پاؤں کی دھول ہوں
گرچہ شہرت مری آپ سی تو نہیں
پھر بھی تھوڑا بہت میں بھی مقبول ہوں
پنہاں مجھ میں بھی اسعد، صدف ہیں بہت
یہ الگ بات ہے کہ میں مجہول ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





