حصارِ جاں کو پھاند کر حریمِ ذات توڑ کر
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
حصارِ جاں کو پھاند کر حریمِ ذات توڑ کر
چلوکہ طوق گردنوں میں پاوں میں ہزاردام
چلو کہ ان تماش بیں سے آرزو فضول ہے
چلو کہ سنگِ راہ کی ہر اک خلش قبول ہے
چلو کہ اپنی منزلوں کے راہ گر عیاں نہیں
چلوکہ اپناسوزوغم کسی سےبھی نہاں نہیں
چلو کہ پائے جستجو ابھی تلک کٹے نہیں
چلو کہ اپنے حوصلے لٹے تو ہیں مٹے نہیں
چلوکہ میکدوں کواپنی حالتوں پہ چھوڑ دو
چلو کہ اپنے کاسہء سبو ہے کو آج توڑ دو
چلو کہ موسم ِ قفس اداس ہیں حزین ہیں
چلو کہ رسن و دار کے ہمیں تو اک امین ہیں
چلو کہ ایک آہ ہے متاعِ رہ بلب ابھی
چلو کہ اک چراغِ ہے حریفِ راہِ شب ابھی
چلو کہ صبحِ حریت ابھی نہیں تو پھر نہیں
چلو کہ سازِ خیریت ابھی نہیں تو پھر نہیں
چلو کہ نازنین ِ ہند وقت کی پکار ہے
تمہیں پہ اعتماد ہے تمہیں پہ اعتمار ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





