کوئی تو ہوگا جو سمجھے گا قیامت کی زباں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کوئی تو ہوگا جو سمجھے گا قیامت کی زباں
چشمِ نمناک میں پانی نہیں آتش ہے جواں
خوش نہ ہو گر مری گردن پہ ترا ہے خنجر
تیری نسلوں کی قضا ہے مری آنکھوں میں عیاں
مجھ کو معلوم ہے ظالم کی عمر کتنی ہے
جب پرایا ہوا مظلوم سے بس خوفِ زیاں
شیخ جتنے بھی تھے سب سوئے شوالہ دوڑے
اک برہمن نے دیا ہے کسی مندر میں اذاں
مجھ کو نہ ہو کے بھی ہونے کا یقیں حاصل ہے
تجھ کو ہو کر بھی میسر نہیں ہونے کا گماں
پھوس کی کٹیا میں رہ کر بھی رہوں گا بے خوف
تجھ کو پتھر کے محل میں بھی ملے گی نہ اماں
شمسؔ کی چھوڑ وہ ڈوبا بھی تو نکلے گا کبھی
تجھ کو پھر موت کبھی زندگی دے گی نہ یہاں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





