جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

سبھی کی ناک اور نقشہ الگ ہے

کلام: سحر محمود20 نومبر، 20191,387قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سبھی کی ناک اور نقشہ الگ ہے
ہر اک چہرہ یہاں کتنا الگ ہے
تمھاری اور مری دنیا الگ ہے
ہمارا ایسے بھی رستا الگ ہے
بھلی لگتی ہیں اس کی ساری باتیں
محبت کا مگر لہجہ الگ ہے
نبھائے گا کسی سے کیا وہ رشتہ
جو خود ماں باپ سے بیٹا الگ ہے
نہیں ملتا مزاج اس کا کسی سے
زمانے بھر سے وہ رہتا الگ ہے
میاں! دونوں میں جو ہے فرق سمجھو
ارادہ اور ہے، وعدہ الگ ہے
سحر اس سے الگ بالکل نہیں ہوں
نہ میری سوچ اور منشا الگ ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

سبھی کی ناک اور نقشہ الگ ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر