امید ہے وہ آئے گا اجلی سحر کے ساتھ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
امید ہے وہ آئے گا اجلی سحر کے ساتھ
تکتی ہوں اس کی راہ سوالی نظر کے ساتھ
دل میں وہ جھانک لیتے ہیں بس اک نگاہ میں
"مخصوص یہ کمال ہے اہل نظر کے ساتھ"
الفاظ ڈھل ہی جاتے ہیں دل میں بحر کے ساتھ
مشروط ایک غم بھی ہے کار ہنر کے ساتھ
میرے ہی مانگنے میں تھی شاید کوئی کمی
واپس ہوئی ہے میری دعا بھی اثر کے ساتھ
پھر سے نہ روٹھ جائے مری بات پر کوئی
اس کا یقین تو ہے اسی ایک ڈر کے ساتھ
دل میں بڑھی طلب جو کسی آشیاں کی ہے
آواز دے رہی ہے ہوا بھی شجر کے ساتھ
بے جا مسافتوں نے بنایا ہے دل میں گھر
رشتہ یہی جڑا ہے ردا ایک گھر کے ساتھ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





