رہِ شوق میں جو بھی خار تھے مرے ساتھ ساتھ ہی چل پڑے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رہِ شوق میں جو بھی خار تھے مرے ساتھ ساتھ ہی چل پڑے
کوئی پیرہن سے چمٹ گیا کوئی آکے پیر سے لگ گیا
مرے سجدوں کو نہ اماں ملی جو ترے حرم کی فصیل میں
مرے سر کا اس میں قصور کیا جو جدارِ دیر سے لگ گیا
میں فگارِ تیرِ نظر سہی مگر اس کے حال پہ ہنس دیا
جو مرے جگر پہ چلایا تھا وہ اسے بھی خیر سے لگ گیا
یوں تو اور بھی کئی پھول تھے جنہیں میرا باغ عزیز تھا
مرے دل میں تھا جو مہک رہا وہی پھول غیر سے لگ گیا
جو غروبِ مہر کی تھی جگہ، وہیں شمسِؔ خستہ بھی چل دیا
رہِ عمر جوں توں عبور کر، وہ فنا کی سیر سے لگ گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ع
عدنان احمد آزاد
29 اکتوبر، 2019ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ غزل پروفیسر صاحب





