مجھے پتا ہے کہ پتھر سے مارا جاؤں گا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مجھے پتا ہے کہ پتھر سے مارا جاؤں گا
میں آئینہ ہوں تو پھر عکس تو دکھاؤں گا
میں اپنے ظرف کو اس طرح آزماؤں گا
ہوا کی راہ میں کوئی دیا جلاؤں گا
مخالفین کو میرے کوئی خبر کر دے
"چلا گیا تو کبھی لوٹ کر نہ آؤں گا"
تو اپنے من کو گمانوں سے پاک کر پہلے
پھر اپنے دل کی حقیقت تجھے بتاؤں گا
مجھے خبر ہے سبھی تالیاں بجائیں گے
میں اپنے غم کی اگر داستاں سناؤں گا
میں اس کے طرز تغافل سے ہوں خفا لیکن
وہ ہنس کے دیکھ بھی لے گا تو مان جاؤں گا
یہ کہہ کے باپ کو بہلا رہا ہے اک بچہ
کرو نہ فکر بڑا ہو کے میں کماؤں گا
بھٹک گیا ہوں مگر حوصلہ سلامت ہے
میں پھر یہیں سے نیا راستا بناؤں گا
تمھارا نام یقینا رہے گا لب پہ مرے
کبھی دعا کے لیے ہاتھ جب اٹھاؤں گا
حسین بن کے لبھانا بہت ہوا بس کر
میں اب کی بار تری چال میں نہ آؤں گا
تمھارے ظلم کی کشتی ضرور ڈوبے گی
میں آنسوؤں کے بجائے لہو بہاؤں گا
بھرم رکھوں گا میں اپنے وجود کا اے شاد!
نہ ہو اثر نہ سہی شور تو مچاؤں گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





