کوئی آئے آ کے دیکھے دل بے قرار کیا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کوئی آئے آ کے دیکھے دل بے قرار کیا ہے
نہ ہی کٹ رہی ہیں راتیں، نہ ہی دن گزر رہا ہے
یہ جو اشک ہیں رواں یوں، یہ جو حال یوں ہوا ہے
یہی درد دل کا درماں، یہی زخم کی دوا ہے
تو ہے ہجر سے پریشاں، تجھے کیا خبر ہے میری!
ترے ہجر کا تماشا مرے وصل میں ہوا ہے
ہے فسانہ زندگی کا فقط اک نفس میں پنہاں
ہے نفس کی یہ حقیقت کہ ازل سے بے وفا ہے
مری شاعری بھی مجھ تک وہ مقام لے کے آئے
کوئی گنگنا کے بولے یہ شعر تو نیا ہے
ترے حال سے حسن وہ اگر ہو تو کیوں ہو واقف
بھلا اس جہاں میں کوئی کسی اور کا رہا ہے؟
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ا
ابن انصار
8 اکتوبر، 2019بہت ہی عمدہ غزل ہے بھائی
بہت ہی عمدہ
جتنی تعریف کی جائے کم ہے





