روشنی سے پیار ہونا چاہیے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
روشنی سے پیار ہونا چاہیے
ظلمتوں پہ وار ہونا چاہیے
وقت کتنا بھی ہو مشکل، یاد رکھ
عزم کو کہسار ہونا چاہیے
ہر طرف ہیں موت کے بڑھتے قدم
زندگی سے پیار ہونا چاہیے
کو بہ کو چلتی ہوئی باد صبا
روح کو سرشار ہونا چاہیے
راہ گر ہے پر خطر تو بھاگ مت
حوصلہ، دیوار ہونا چاہیے
مردنی سی چھا گئی ہے ہم پہ اب
بر سر پیکار ہونا چاہیے
قوم مسلم جاگ جائے خواب سے
اس کو تو معمار ہونا چاہیے
زیست کی بکھری ہوئی ہیں کرچیاں
اب ہمیں ہشیار ہونا چاہیے
مل رہا ہم کو براہیمی سبق
آگ کو گلزار ہونا چاہیے
ہم جو چاہیں ہوں ثریا پر مقیم
اس طرح کردار ہونا چاہیے
صنعت شعر و سخن مقبول ہو
فن کا بھی معیار ہونا چاہیے
مسندوں پہ جلوہ گر بس تم ہی ہو
اب تمھیں فن کار ہونا چاہیے
کشتیاں جب ہوں بھنور میں قوم کی
ہاتھ کو پتوار ہونا چاہیے
اٹھ وصی بزم جہاں کچھ اور ہے
کچھ نہ کچھ شہکار ہونا چاہیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





