........ ہوگئی ہے کیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگی سرد ہوگئی ہے کیا
موت ہم درد ہوگئی ہے کیا
اک ذرا اس کی سرد مہری سے
روح تک سرد ہوگئی ہے کیا
سبز و شاداب تھی مری دنیا
دیکھیے زرد ہوگئی ہے کیا
وہ جو منزل تھی عاشقوں کی کبھی
راہ کی گرد ہوگئی ہے کیا
وصل میں ایک انجمن تھی جو
ہجر میں فرد ہوگئی ہے کیا
جو مسیحائے قلب کاشف تھی
خود ہی پر درد ہوگئی ہے کیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (3)
ا
اسرار
1 اکتوبر، 2019ماشاءاللہ واہ واہ کیا کہنے
K
Kashif Shakeel
29 ستمبر، 2019بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب
س
سعد احمد
29 ستمبر، 2019واہ بہت عمدہ۔ جون ایلیا کا مزہ دلادیا آپ نے سر جی۔ بہت اچھے۔





