دل جو پاتا ہے سکوں نسبت روحانی سے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دل جو پاتا ہے سکوں نسبت روحانی سے
مجھ کو لذت وہی ملتی ہے غزل خوانی سے
قدر و قیمت کا مری تجھ کو ہو اندازہ کیوں
میں میسر جو تجھے آ گیا آسانی سے
تاب نظارہ کہاں ہے کہ تجھے دیکھ سکوں
“آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے”
بات کی میری ہو ترسیل یہی مقصد ہے
کیا غرض مجھ کو عبارات کی طولانی سے
بعد کو خاک کے پتلے ہی نظر آتے ہیں
دل کو وحشت سی ہے یوں صورتِ انسانی سے
اک نظر میں تو کسی کو نہ پرکھ پاؤ گے
اس طرح دیکھتے کیوں ہو مجھے حیرانی سے
ہو مسلمانوں سا ایمان و عمل بھی تو سحر
کوئی ہوتا ہے مسلمان، مسلمانی سے؟
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





