جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کھیلتے ہیں تری تابانئ رخسار کے ساتھ

کلام: عبدالکریم شاد30 اگست، 20191,289قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کھیلتے ہیں تری تابانئ رخسار کے ساتھ
دل الجھتا ہے مرا گیسوئے خم دار کے ساتھ
کشتئ عشق میں اس حال میں ہوں یار کے ساتھ
سلسلہ موج کا اچھا نہیں پتوار کے ساتھ
ایک آواز چھپی ہوتی ہے خاموشی میں
ایک خاموشی لگی رہتی ہے گفتار کے ساتھ
ہر کسی کو تو میسر نہیں شانوں کی اماں
ہم تو روتے ہیں لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ
کم سے کم آپ کو خوش بو تو میسر ہوگی
بیٹھیے تو کبھی جا کر کسی عطار کے ساتھ
میرا سر کاٹ دو پروا نہیں کوئی لیکن
چھیڑ خانی نہ کرو تم مری دستار کے ساتھ
کتنے مجبور ہیں پردیس میں رہنے والے
کیسے کرتے ہیں بسر درہم و دینار کے ساتھ
روز کرتے ہیں وہ ایجاد کوئی بیماری
اور سودا بھی وہی کرتے ہیں بیمار کے ساتھ
اب بھی کچھ لوگ ہیں دنیا میں جو یوں جیتے ہیں
جیسے گلشن میں رہا کرتے ہیں گل خار کے ساتھ
اسی امید پہ اٹھتا ہوں میں ہر صبح کہ آج
کوئی تو اچھی خبر آئے گی اخبار کے ساتھ
آزمائے گا وہ تم پر بھی کبھی ہشیاری
شاد رہنا نہیں اچھا کسی ہشیار کے ساتھ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کھیلتے ہیں تری تابانئ رخسار کے ساتھ - دی فری لانسر | دی فری لانسر