مرے رقیب مرا احترام کرتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مرے رقیب مرا احترام کرتے ہیں
کہ دیکھ کر مجھے تنہا سلام کرتے ہیں
جو سامنے کبھی اک لفظ بھی نہ کہہ پائے
وہ دور جاتے ہی تیکھا کلام کرتے ہیں
ہمارے دور میں قاتل بھی کیسے ہیں معصوم
کہ قتل کرتے ہیں تو رام رام کرتے ہیں
جدھر بھی دیکھوں ادھر بس وہی دکھائی دے
ہم اپنی نظروں کا یوں اہتمام کرتے ہیں
لہو لہو ہے یہ سورج بھی میرے دل کی طرح
حریقِ آتشِ دل اس کے نام کرتے ہیں
ہم ایک عرصہ چلے ساتھ پر رہے تنہا
رکو یہیں پہ محبت کی شام کرتے ہیں
تمام عمر ترا انتظار تھا جاناں
اب آگئے ہو تو لو جاں تمام کرتے ہیں
یہ رنجشوں کا اندھیرا یہ نفرتوں کا زہر
چلو پیامِ دلِ شمسؔ عام کرتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





