اہلِ وطن کو ایسا ہے درکار ایک شخص
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اہلِ وطن کو ایسا ہے درکار ایک شخص
طوفاں کے سامنے ہو جو دیوار ایک شخص
مدت ہوئی ہے لوگ ابھی تک ہیں سوگوار
ویسے تو مر گیا ہے یہ بے کار ایک شخص
فاقوں سے اپنے بچے تڑپتا وہ دیکھ کر
خود کو چلا ہے بیچنے بازار ایک شخص
جنگل کٹا اکیلا شجر زرد پڑ گیا
مرنے لگا ہے ایسے ہی بیزار ایک شخص
تسلیم ہے سبھی کو ہر اک بات ہر ادا
ہوتا ہے کیسے اتنا اثردار ایک شخص
مصروفیت ہے ٹھیک، شناسائی کیا ہوئی
آیا ہے پورے شہر سے غمخوار ایک شخص
جاں پر بنی تو ایک ہے بھاری ہزار پر
ہو جاتا ہے کبھی کبھی بسیار ایک شخص
ہر وقت اس کی چاہ اسی کی ہے یاد، دُھن
یوں رفتہ رفتہ ھو گیا سنسار ایک شخص
اے ناخدا تجھے ہی بچانی ہیں کشتیاں
لازم نہیں کہ آئے گا ہربار ایک شخص
سب سے محبتیں ہیں مگر عشق و پیار میں
اسعؔد ہے تیرے دل کا بھی حقدار ایک شخص
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





