یا رب! کتابِ زیست میں وہ داستاں نہ ہو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یا رب! کتابِ زیست میں وہ داستاں نہ ہو
جس کا ترے حضور بہ راضی بیاں نہ ہو
برہم کسی بھی حال میں تو مہرباں! نہ ہو
چاہے مرے مزاج سے راضی جہاں نہ ہو
بیزار تجھ سے ہو تو مرے تن میں جاں نہ ہو
دل پر ترے علاوہ کوئی حکم راں نہ ہو
تو اپنے عفو و رحم کی چادر سے ڈھانپ دے
میرا کوئی گناہ کسی پر عیاں نہ ہو
ہر موج تیرے حکم کی تابع ہو اے خدا!
ورنہ مری حیات کا دریا رواں نہ ہو
حق ہی لکھے اگرچہ سیاہی لہو بنے
باطل کا میرا خامہ کبھی ترجماں نہ ہو
ایسی جگہ قیام نہیں چاہیے مجھے
جس کی فضا میں بوئے صدائے اذاں نہ ہو
اے آسمان والے! مری رہ نمائی کر
میرا قدم زمیں پہ کہاں ہو، کہاں نہ ہو
شام و سحر یہی ہے مری تجھ سے التجا
تیرے حضور میرا عمل رائگاں نہ ہو
غم ہو، خوشی ہو، کوئی بھی حالت ہو اے خدا!
اک پل بھی تیرے ذکر سے غافل زباں نہ ہو
یوں میرے دل میں ڈال دے ایمان کا مزہ
غم بھی ملیں تو میرے لبوں پر فغاں نہ ہو
ناکام آؤں جس کے نتیجے میں تیرے پاس
درپیش مجھ کو ایسا کوئی امتحاں نہ ہو
دل کو تری ہی ذات سے امید ہو سدا
تجھ سے کسی بھی حال میں یہ بد گماں نہ ہو
دنیا کا سود مجھ کو نہیں مل سکا تو کیا
یہ آرزو ہے حشر میں حاصل زیاں نہ ہو
تیری رضا کا پاس رہے مجھ کو مستقل
تیری رضا سے ہٹ کے یہ دل شادماں نہ ہو
اللہ! تجھ سے میرا تعلق ہو اس قدر
جُز تیرے کچھ بھی تیرے مرے درمیاں نہ ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





