جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اس نے جو کچھ کہا کر دیا

کلام: سحر محمود5 اگست، 20191,565قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس نے جو کچھ کہا کر دیا
فرض اپنا ادا کر دیا
ختم ہر مسئلہ کر دیا
ہم نے خونِ انا کر دیا
یہ طریقہ عطا کا نہیں
جو دیا وہ دکھا کر دیا
بھولنا چاہتا تھا اسے
تو نے پھر تذکرہ کر دیا
خاصیت یہ ہے اخبار کی
جس کو چاہا خدا کر دیا
ذکرِ احوال کر کے سحر
لطفِ غم بے مزا کر دیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اس نے جو کچھ کہا کر دیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر