جینے کی جب تمنا و تدبیر نہ رہی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جینے کی جب تمنا و تدبیر نہ رہی
پائے حیات میں کوئی زنجیر نہ رہی
اب اور حسن ِ زیست کا امکاں نہیں رہا
اب اور مجھ میں قوتِ تقصیر نہ رہی
اس دشت ِآرزو میں بھٹکتا ہوں اس طرح
جیسے کہ مجھ پہ گردشِ تقدیر نہ رہی
اب میری بے نیازی کا چرچا نہ ہو کہیں
اب میری عجز باعث توقیر نہ رہی
ہم آج بھی ہیں قابل ِ ضبط ِ غم ِ حیات
پر وقت کی کماں میں کوئی تیر نہ رہی
اس جلوہ گاہ ِخواب کی وسعت کےباوجود
شاید ہمارے خواب کی تعبیر نہ رہی
آدابِ بزم تب تھے سزاہائے جرم ِ عشق
اب جرمِ عشق کی کوئی تعزیر نہ رہی
تہذیب،حسن ِ خلق، شرافت،محبتیں
اجداد کی وہ ایک بھی جاگیر نہ رہی
دل میں رہی نہ کوئی تمنائے چشم ِ ناز
آنکھوں میں حسن ِ یار کی تصویر نہ رہی
دست ِ طلب کو چاہیے تکمیل ِ آرزو
حرف ِ دعا کو حاجت ِ تاثیر نہ رہی
زیبائشوں کے ساز سبھی ہیں بہم مگر
فائز غمِ حیات کی تصویر نہ رہی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
خ
خبیب حسن
3 اگست، 2019خوب برادرم❤️❤️





