کسی کو ذات سے میری ہو کچھ اگر تکلیف
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کسی کو ذات سے میری ہو کچھ اگر تکلیف
بتائے مجھ کو تبھی دور ہوگی ہر تکلیف
کسی کے حصے میں آئی ہو کچھ اگر تکلیف
وہ سونپ دے مجھے اپنی تمام تر تکلیف
تمھیں یہ کیسے بتاؤں کہ کس طرح میں نے
تمھاری یاد میں جھیلی ہے عمر بھر تکلیف
کسی کے بس کا نہیں ہے کہ دور کر دے کوئی
لکھی ہے جن کے نصیبوں میں سر بہ سر تکلیف
کسی کو مشورہ دینا تو سہل ہے لیکن
کٹھن ہے جھیلنا برسوں سے ما حضر تکلیف
وہ جس نے چوٹ نہ کھائی ہو خاص اپنوں سے
اسے پتا نہیں ہوتی ہے کس قدر تکلیف
کرو معاف یا پھر دو مجھے سزا کوئی
مگر اٹھاؤ نہ یوں سوچ سوچ کر تکلیف
سبھی کو دکھ ہے ابھرتے ہوئے ستاروں سے
شکست یافتہ لوگوں سے کیا سحر تکلیف؟
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





