لوگ کہنے کو کیا نہیں کہتے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
لوگ کہنے کو کیا نہیں کہتے
ہاں مگر برملا نہیں کہتے
تم ابھی ہو وفا سے نا واقف
ہم تمھیں بے وفا نہیں کہتے
اپنے دل کی تو سب ہی کہتے ہیں
آئنے کا کہا نہیں کہتے
ایک دنیا دکھائی دیتی ہے
ہم خلا کو خلا نہیں کہتے
خلق و خالق میں فرق ہے لازم
ناخدا کو خدا نہیں کہتے
جو دکھاتا ہے ظاہری صورت
ہم اسے آئنہ نہیں کہتے
ایسے اشعار میرے کیوں ہوتے؟
جو مرا مدعا نہیں کہتے
اپنے دل سے رجوع کر لیجے
مان لو ہم بہ جا نہیں کہتے
شاد! فطرت ہے کم نگاہوں کی
وہ کسی کو بڑا نہیں کہتے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





