جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مدتوں سے وہیں پہ بیٹھا ہوں

کلام: شمس الرب خان28 جولائی، 20191,869قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مدتوں سے وہیں پہ بیٹھا ہوں
وہ یہ کہہ کر گیا تھا آتا ہوں
اس کے جانے سے کچھ نہیں بگڑا
خود سے کہتا ہوں اور ہنستا ہوں
قہقہے چیختے ہیں اتنے کہ
زور سے ہنس کے آہ بھرتا ہوں
فائدہ جس سے ہو وہی اپنا
پیار میں بھی میں تاجرانہ ہوں
لیلی جاتی ہے شوق سے جائے
میں نہ مجنوں نہ ہی دوانہ ہوں
سن کے محفل میں شمع کی باتیں
بولا پروانہ میں بھی جلتا ہوں
سوتے پانی میں پھینک کر کنکر
اپنی آنکھوں کو موند لیتا ہوں
غم جب آتے ہیں غم زدہ کرنے
دل دِکھا کر انہیں رلاتا ہوں
جال جل جائے گا ترا صیاد
شمسؔ ہوں آگ ہوں شرارہ ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

f
fauzan ahmad
1 اگست، 2019
!!!..khoob

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مدتوں سے وہیں پہ بیٹھا ہوں - دی فری لانسر | دی فری لانسر