جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

وہ سوز کیا جو صورتِ چاک ِ جگر نہ ہو

کلام: فائز بلرامپوری22 جولائی، 20191,795قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ سوز کیا جو صورتِ چاک ِ جگر نہ ہو
وہ رنج کیا جو باعث ِ رنج ِ دگر نہ ہو
یہ عارض اور جسم ونظر،گیسوئے دراز
یارب یہ جلوہ گاہ ِ فریبِ نظر نہ ہو
ہم اہلِ دل نگاہ جھکائے چلے گئے
جیسے وہ رہ گزار ترا رہ گزر نہ ہو
اب تیرے بعد پھرنہ ہو پیماں شکن کوئی
اب تیرے بعد اور کوئی معتبر نہ ہو
سنتےہیں راز کھل گئی زاہد کے زعم کی
سواب کےبعد شہرمیں پھررقص ِشرنہ ہو
پیغام وصل ِ یار بھی ہو تیرا خط بھی ہو
اور سوچتا ہوں تو ہو ترا نامہ بر نہ ہو
اس دور بر ہنگی میں بھی لازم ہے پیرہن
بے پیرہن تو آج بھی فکر و نظر نہ ہو
اس راہِ زندگی سے ملے مستقل پناہ
جس زندگی کی راہ میں کوئی شجر نہ ہو
وہ آئینہ نہیں ہے جو پتھر سے خوف کھائے
وہ آئینہ ہے جس کو کوئی خوف و ڈرنہ ہو
میں کب سے دیکھتا ہوں تماشائےزندگی
میں کب سےسوچتا ہوں مری آنکھ ترنہ ہو
تنہائیوں کا خوف ستاتا ہے راہ بھر
جب تک کہ سنگِ راہ مرا ہم سفر نہ ہو
اے زندگی یہیں پہ ٹھہر جا تو خیر ہو
شائد کہ اس کے بعد کوئی مستقر نہ ہو
کب سے ہے آرزوئے دل بے قرار کہ
شانوں زلف ِیار رہے اور سحر نہ ہو
فائز ترے جنوں پہ رہے سب جنوں تمام
اب تیرے بعد پھر کوئی آشفتہ سر نہ ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وہ سوز کیا جو صورتِ چاک ِ جگر نہ ہو - دی فری لانسر | دی فری لانسر