چبھ رہی ہے دل میں کیلِ زندگی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
چبھ رہی ہے دل میں کیلِ زندگی
غم ہو جیسے سنگ میلِ زندگی
بن گئے ہیں وہ وکیلِ زندگی
اصل میں جو ہیں قتیلِ زندگی
بڑھ رہے ہیں موت کی جانب سبھی
تھام کر اے دل! نکیلِ زندگی
زندگی اپنا پتا دیتی ہے خود
ہے یہی کافی دلیلِ زندگی
باتوں سے بدلی ہے کب حالت میاں!
کیجیے پیدا سبیلِ زندگی
کیا بھروسا کب سحر دم ٹوٹ جائے
گرنے والی ہے فصیلِ زندگی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





