کچھ اس طرح سے سنایا گیا کہانی کو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کچھ اس طرح سے سنایا گیا کہانی کو
کہ لوگ بھول گئے میری حق بیانی کو
سمجھ سکا نہ کوئی تیری مہربانی کو
کسی نے غور سے دیکھا نہ زندگانی کو
گمان تھا کہ کہیں یہ بھی اک سراب نہ ہو
"میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو"
زباں سے نکلے ہیں الفاظ تو درست مگر
بیان کرتا ہے لہجہ الگ معانی کو
خدا کرے نہ کھلے مجھ پہ تیرا راز کوئی
تو برقرار رکھے میری خوش گمانی کو
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں اشک یوں اترا
کہ ہم نے شعلوں پہ دیکھا مچلتے پانی کو
ہر آدمی سے تو جو مسکرا کے ملتا ہے
ہے ڈر لگے نہ نظر شاد! شادمانی کو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





