زندگانی کے بھی انداز سنہرے ہوتے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگانی کے بھی انداز سنہرے ہوتے
میرے خوابوں کی وہ تعبیر جو ٹھہرے ہوتے
پاس میرے بھی اگر دولتِ دنیا ہوتی
جن سے بھی اپنے مراسم ہیں وہ گہرے ہوتے
سازشیں اپنے خلاف آپ اگر سن پاتے
بس یہی ایک دعا کرتے کہ بہرے ہوتے
لوگ کرلیتے اگر فرقِ مراتب کا خیال
فیصلے پھر نہ زمانے میں اکہرے ہوتے
اس کی یادیں مجھے سونے نہیں دیتی ہیں سحر
ورنہ راتوں کو نہ اس طرح سے پہرے ہوتے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
س
سحر محمود
18 جولائی، 2019آمین!
حوصلہ افزائی کے لیے ممنون ہوں محترمی!
جزاکم اللہ خیرا
R
Rasheed salafi
17 جولائی، 2019بہت عمدہ اور بہت خوبصورت اشعار
پختگی اور سلیقگی نمایاں ہے
اللہ مزید نکھار پیدا فرمائے آمین





