تو وفا کا ذکر کرنا چھوڑ دے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تو وفا کا ذکر کرنا چھوڑ دے
عشق، الفت، پیار کرنا چھوڑ دے
رسمِ الفت جب نبھانی ہی نہیں
دل کی گلیوں سے گزرنا چھوڑ دے
دسترس میں جب نہیں آتا مرے
میرے آنگن میں اترنا چھوڑ دے
گردشِ ایام کا حصہ ہے سب
مشکلوں میں تو بکھرنا چھوڑ دے
زندگی سے اس قدر جب پیار ہے
ہو اگر ممکن تو مرنا چھوڑ دے
مان لیں گے ہم تری باتیں سبھی
بس تو وعدوں سے مکرنا چھوڑ دے
موت تو آئے گی اپنے وقت پر
موت کے آنے سے ڈرنا چھوڑ دے
چار دن میں روپ سب ڈھل جائے گا
اس قدر سجنا سنورنا چھوڑ دے
دور تک تو بھی نہیں اُڑ پائے گا
دوسروں کے پر کترنا چھوڑ دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ش
شعیب سراج
20 جون، 2020شیخ ماشاءاللہ بہت اچھی غزل ہوئی ہے
آپ کی غزل کے مطلع سے پتا چلتا ہے کہ آپ نے "ذکر" اور "پیار" کو قافیہ بنایا ہے اور "کرنا چھوڑ دے" ردیف ہے
مگر پوری غزل میں آپ نے "کترنا" "سنورنا" وغیرہ کو قافیہ بنایا ہے اور ردیف "چھوڑ دے"
اس لئے مطلع پر نظر ثانی فرمائیں
والسلام





