تیرے آنے سے کہیں بہتر تھا نا آنا ترا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تیرے آنے سے کہیں بہتر تھا نہ آنا ترا
دکھتی رگ پے ہر دفعہ ہاتھوں کا رکھ جانا ترا
دیکھ دل کا حال جو اب سینئہ سوزاں میں ہے
کب تلک اے دشمن جاں! یوں ہی تڑپانا ترا
بر تو آیا ہے شب تاریک سے تو آفتاب!
ہائے لیکن شام ہوتے پھر سے ڈھل جانا ترا
نیند آئی جاتی ہے اب جھوٹے وعدوں سے ترے
ختم ہوگا آخرش کب کو یہ افسانہ ترا
ہر خطا پہ میرے رب کی درگزر کے باوجود
دفتر عصیاں کا اک اک حرف پڑھ جانا ترا
کب تلک جوڑے کوئی تیرا حساب سوز و ساز
روز اک نہ اک نیا سا رنگ بھر جانا ترا
تجھ کو پانے کے سبھی حیلے ہوئے ناکامیاب
اب فقط قسمت پہ ہے موقوف مل جانا ترا
تو بھی ہوتا قوم کا اک شیخ، اک پیر مغاں
مستند ہوتا حسن اے کاش! فرمانا ترا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (3)
س
سعد احمد
16 اگست، 2019ماشاء اللہ بھائی.بہت عمدہ.
ر
ریاض مبارک
15 جولائی، 2019لاجواب!!
T
Taufeeque Ahmed
15 جولائی، 2019بہت خوب حمود بھائی





