اسی میں فتح کا میری نچوڑ رکھا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اسی میں فتح کا میری نچوڑ رکھا ہے
جو فیصلہ ہے ترے دل پہ چھوڑ رکھا ہے
یہ میرے حق میں دعائیں ہیں میرے اپنوں کی
انھی نے موجِ حوادث کو موڑ رکھا ہے
خدا کی ذات سے قائم سبھی امیدوں نے
مری حیات کے دھاگے کو جوڑ رکھا ہے
نبھا رہا ہوں اکیلا میں اس سے رسمِ وفا
وہ جس نے وعدہ و پیمان توڑ رکھا ہے
علاج ڈھونڈ رہا ہوں بےروزگاری کا
گلا غریبوں کا اس نے مروڑ رکھا ہے
میں کیسے باز رکھوں خود کو ٹوٹنے سے سحرؔ
کسی کی باتوں نے دل کو جھنجھوڑ رکھا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





