جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جانے کس بات پر اڑی ہے دھوپ

کلام: عبدالکریم شاد15 جون، 20191,741قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جانے کس بات پر اڑی ہے دھوپ
ہر شجر سے بہت لڑی ہے دھوپ
کوئی سایہ نظر نہیں آتا
دیکھیے ہر طرف کھڑی ہے دھوپ
خود سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
راہ میں کس قدر کڑی ہے دھوپ
کوہ کن کے لیے تو دنیا میں
کوئی موسم ہو ہر گھڑی ہے دھوپ
تم جو آؤ تو شام ہو جائے
بام پر صبح سے کھڑی ہے دھوپ
میری سرسبز و نم طبیعت سے
صبح سے شام تک لڑی ہے دھوپ
چھاؤں خوشیوں کی مل سکی نہ کہیں
رنج کی جا بہ جا پڑی ہے دھوپ
اس کے غصے کا شاد! کیا کہنا
جیسے برسات میں کڑی ہے دھوپ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جانے کس بات پر اڑی ہے دھوپ - دی فری لانسر | دی فری لانسر