جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کون تھا اور سوا تیرے یقیں کے لائق

کلام: سحر محمود13 جون، 20191,497قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کون تھا اور سوا تیرے یقیں کے لائق
تو نے چھوڑا ہی کہاں مجھ کو کہیں کے لائق
پاؤں اب ان کے زمیں پر ہی نہیں پڑتے ہیں
کیسے ہو سکتے ہیں وہ خاک نشیں کے لائق؟
آسمانوں کے بھی در ہوں گے تمھارے لیے وا
بن تو جاؤ بھلا تم روے زمیں کے لائق
ان کے ماتھے کی شکن سے ہے پریشاں مرا دل
بات تو کچھ بھی نہ تھی چیں بہ جبیں کے لائق
یہ ضروری نہیں سب صاحبِ مسند ہی رہیں
کیا یہ دنیا نہیں بے تاج و نگیں کے لائق؟
اب تو آلام و مصائب میں سکوں ملنے لگا
اور کچھ ڈھونڈیے اس قلبِ حزیں کے لائق
تو اگر چاہے تو ہو سکتا ہوں میں بھی مولٰی!
سایۂ عرشِ بریں، خلدِ بریں کے لائق
تم ابھی آئے ہو کیا تم کو خبر ہوگی سحر!
کون ہے شہر میں ہاں اور نہیں کے لائق
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کون تھا اور سوا تیرے یقیں کے لائق - دی فری لانسر | دی فری لانسر