اپنا ہر کام تجربے کا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اپنا ہر کام تجربے کا ہے
زندگی نام تجربے کا ہے
تجربے کے بغیر کچھ بھی نہیں
سارا انعام تجربے کا ہے
مانگ ہے تجربے کی دنیا میں
آج بس دام تجربے کا ہے
عشق بھی ایک تجربہ ہے میاں!
یہ بھی اک نام تجربے کا ہے
زندگی تجربے میں ختم ہوئی
موت انجام تجربے کا ہے
سیکھتے رہیے کچھ بزرگوں سے
ان کا پیغام تجربے کا ہے
سامنا مستقل سحر محمود!
صبح اور شام تجربے کا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





