قلب ہے ایمان سے سرشار، میں روزے سے ہوں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
قلب ہے ایمان سے سرشار، میں روزے سے ہوں
یہ عبادت کچھ نہیں دشوار، میں روزے سے ہوں
مجھ کو گالی مت دے میرے یار! میں روزے سے ہوں
تجھ سے کر سکتا نہیں تکرار، میں روزے سے ہوں
میرا لہجہ نرم ہے اور میری آنکھیں خوش کلام
دیکھ لو، چہرے پہ ہیں آثار، میں روزے سے ہوں
دیکھ لڑکی! آزمائش میں نہ مجھ کو ڈال تو
دور رکھ مجھ سے لب و رخسار، میں روزے سے ہوں
اے حسینو! سامنے آؤ تو آؤ با حجاب
میری آنکھیں کر نہ لیں افطار، میں روزے سے ہوں
نفس امارہ! مجھے لغزش پہ آمادہ نہ کر
تیری ہر دعوت سے ہے انکار، میں روزے سے ہوں
کیوں مجھے تو پوچھتا ہے چائے پانی بار بار
کہ چکا ہوں تجھ سے کتنی بار، میں روزے سے ہوں
دھیان میرا بانٹتا ہے کیوں یہ سوشل میڈیا
بند کر ٹی وی، ہٹا اخبار، میں روزے سے ہوں
پوچھ مت اس پیاس کی شدت میں کیسا لطف ہے
تو نہیں سمجھے گا اے مے خوار! میں روزے سے ہوں
تو مرے اخلاص کو ثابت قدم رکھ اے خدا!
سامنے کھانوں کا ہے انبار، میں روزے سے ہوں
جن گناہوں میں ملوث تھا میں گیارہ ماہ تک
شاد بھائی! ان سے ہوں بیزار، میں روزے سے ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (3)
S
Sawood zain
10 مئی، 2019Ma sha allah
S
Sawood zain
10 مئی، 2019ماشاء اللہ عمدہ تحریر
کیا ہی خوب صورت اندار
K
Kashif Shakeel
7 مئی، 2019واہ واہ بہت عمدہ
شاد بھائی کا ایک نیا شاہکار
جزاکم اللہ خیرا کثیرا شاد بھائی





