بحرِ ہستی میں بلا خیز ہیں کتنے طوفاں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بحرِ ہستی میں بلا خیز ہیں کتنے طوفاں
ہم اگر خاک نہ ہوتے تو سمندر ہوتے
عہدِ طفلی میں ہی پھرتے ہیں جو کاسہ لے کر
ہم جو مردہ نہیں ہوتے وہ سکندر ہوتے
شکر قرآں کا کریں آدمی جتنے ہیں یہاں
ڈارون نسل کے ہوتے جو تو بندر ہوتے
میرے منصف کے لیے نام ہی کافی تھا مرا
جرم کوئی بھی نہ ہوتا تو بھی اندر ہوتے
گھومتے ہیں یہ جو اوباش گلی کوچوں میں
شمسؔ سے راہ جو رکھتے تو قلندر ہوتے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





