رنج محرومیٔ دل رنج دگر کچھ بھی نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رنج محرومیٔ دل رنج دگر کچھ بھی نہیں
پائے مجروح، غم راہ سفر کچھ بھی نہیں
فرحت شوق، غم فوت تمنائے حیات
زندگی اور ترے پیش نظر کچھ بھی نہیں
اک تری دید میں پنہاں ہے جمالِ ایام
اس تجلی میں سوا برق و شرر کچھ بھی نہیں
یہ چمکتے ہوئے تارے مرے ہمراہ حیات
میرے آغوش میں امید سحر کچھ بھی نہیں
اک مری تشنہ لبی اور لب تر تیرا
اور پھر دیکھ کہ تا حد نظر کچھ بھی نہیں
اس کے ہاتھوں میں رہے خاک تو اکسیر کہے
میرے ہاتھوں میں زمانے کا ہنر کچھ بھی نہیں
اک تری دید میسر ہو تو اے چارہ گراں
سوزِ دل کچھ بھی نہیں چاک جگر کچھ بھی نہیں
در بدر پھرتے ہوئے جائیں تو اب جائیں کہاں
کوئے جاناں، درِ یاراں ہو کہ گھر کچھ بھی نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





