سمجھ رہے ہیں سبھی سچ غلط بیانی کو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سمجھ رہے ہیں سبھی سچ غلط بیانی کو
بھلا چکے ہیں حقیقت کے اب معانی کو
ہمیشہ راج رہے ان کا بس مرے دل پر
دوام بخشے خدا ان کی حکم رانی کو
وہ جس طرح سے بھی چاہے گزار لے مجھ کو
میں کر چکا ہوں سپرد اس کے، زندگانی کو
جو ہو گئی ہے خطا مان لو اسے لیکن
قصور وار نہ ٹھہراؤ تم جوانی کو
بنا لیا ہے اسے مقصد حیات اپنا
بھلا چکا ہوں میں ہر عیشِ زندگانی کو
ابھر کے آگئے منظر کئی ان آنکھوں میں
“میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو”
بڑے یقین سے اس نے کہا ہے اپنا سحر
نہ ٹھیس پہنچے کبھی اس کی خوش گمانی کو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





