فیشن نے کیا عجیب لبادہ بنا دیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
فیشن نے کیا عجیب لبادہ بنا دیا
لیلی کو قیس، قیس کو لیلی بنا دیا
انسانیت کو سود کے سانچے میں ڈھال کر
اس دور کی مشین نے کیا کیا بنا دیا
فرعون ڈوب جاتے ہیں اپنے غرور میں
ورنہ خدا نے بحر میں رستا بنا دیا
عرفان ہو سکا نہ خدا کا تو کیسا علم
عینک نے آنکھ والوں کو اندھا بنا دیا
دیکھو تو ان کے ذکر سے نالاں ہے لفظ لفظ
کچھ سرخیوں نے جن کو مسیحا بنا دیا
ہر صبح جاگنے پہ مجھے آتا ہے خیال
میں مٹ گیا تھا کس نے دوبارہ بنا دیا
ان رنگتوں کو دیکھ کے مانوں میں کس طرح
خالق نے کائنات کو بے جا بنا دیا
دنیا نے مجھ میں رنگ بھرے کیسے اے خدا!
میں شاہ کار تھا مجھے یہ کیا بنا دیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
Z
Zubair Khan
21 اپریل، 2019ماشاءاللہ, بہت خوب





