ہم دل میں ابھی خواہشِ سادہ نہیں رکھتے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہم دل میں ابھی خواہشِ سادہ نہیں رکھتے
اے دوست بچھڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے
پہچان الگ اپنی بناتے ہیں جہاں میں
رنگوں کا عجب ہم یوں لبادہ نہیں رکھتے
فطرت میں بخیلی ہو کسی کی تو سمجھ لے
دل اس کے لیے ہم بھی کشادہ نہیں رکھتے
میزان پہ شعروں کو نہ تولو کہ ابھی ہم
بحروں پہ پکڑ اتنی زیادہ نہیں رکھتے
رہتے ہیں وہی اڑتے ہیں مانندِ صبؔا جو
ہم فوج میں کوئی بھی پیادہ نہیں رکھتے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
خ
خبیب حسن
17 اپریل، 2019شاید
بحروں پہ پکڑ اتنی بھی زیادہ نہیں رکھتے
خوب😊😊





