بے کار کو یوں یار بنایا نہیں گیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بے کار کو یوں یار بنایا نہیں گیا
دل کا جلا ہوا تھا بجھایا نہیں گیا
دیدار جو تمہارا نہ اتنے دنوں ہوا
بے چین دل ہوا بھی بلایا نہیں گیا
خواہش تھی راہ رو کی جو پوری نہ ہوسکی
پردہ نشیں تھے چہرہ دکھایا نہیں گیا
"آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی"
پھر یوں ہوا کہ مجھ سے بھلایا نہیں گیا
منصب پہ بیٹھے لوگ تھے نا اہل و بیوقوف
قابل جو تھے انہی کو بٹھایا نہیں گیا
احساس مر گیا ہے جو دل مردہ ہوگئے
معصوم تھا مگر وہ بچایا نہیں گیا
گزرا شباب دنیا کے جنجال میں میاں
کہتے ہیں ہم کو دین سکھایا نہیں گیا
اسلام کے لیے تھے ستائے گئے نبی
ہم ہیں کہ ہم سے یہ بھی بتایا نہیں گیا
دشمن نے لاکھ چاہا کہ دل میں جگہ ملے
چاہا مگر وہ دل میں بٹھایا نہیں گیا
سوچا کہ آخری ہی جھلک دیکھ لوں صبؔا
پردہ پڑا تھا ان پہ ہٹایا نہیں گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





