نہ نظر میں اپنی گر کر کبھی بھی کلام کرنا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہ نظر میں اپنی گر کر کبھی بھی کلام کرنا
ہو خوشامدی کا خطرہ نہ کبھی سلام کرنا
تری معرفت شناسی میں سرور ہے مسلسل
مری بندگی کا قصہ نہ کبھی تمام کرنا
ہے یہ دنیا بے مروت بے ثباتی اس کی پہچاں
اسے دل کبھی نہ دینا نہ ہی اہتمام کرنا
یہ ہے دل کراۓ کا گھر یہ ہے عارضی رہائش
اسے رہگزر ہی سمجھو کبھی مت قیام کرنا
یہ مزہ ہے زندگی کا جو یہ قسط وار دوڑے
کہ تباہی ہے مکمل اسے بے لگام کرنا
مجھے خدشہ ہے کہ سورج کہیں تم کو لے نہ ڈوبے
نہیں اس کے سنگ اپنی کبھی صبح شام کرنا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





