راستے میں جو آؤ جاؤ گے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
راستے میں جو آؤ جاؤ گے
اِس مسافر کا درد پاؤ گے
اِس طرح جو مجھے ستاؤ گے
میرے بِن تم بھی رہ نہ پاؤ گے
کون ہوں میں کہاں سے آیا ہوں
جتنا سوچو گے جاں جلاؤ گے
ایک دھوکہ ہوں میں نظر کا فقط
تم حقیقت نہ دیکھ پاؤ گے
نہ ہی لیتا ہوں نہ ہی دیتا ہوں
کس طرح جوڑو گے گھٹاؤ گے
نام ہی تو ہے جوڑ دو اپنا
ناک اپنی ہی تم کٹاؤ گے
دل میں آتا ہوں پر نہیں جاتا
تم مجھے کس طرح بھلاؤ گے
جانے والے سنو سنو اک بات
نیند میں خوب بڑبڑاؤ گے
تیر و تلوار خنجر و شمشیر
آز ماؤ گے مات کھاؤ گے
درد پھیلا ہے روح کی تہ تک
زخم سہلا کے کیا بناؤ گے
میں ہوں سورج سنو مرے مہتاب
وصل کی شب کبھی نہ پاؤ گے
شمسؔ کے دل میں کود جاؤ تم
عشق ہوگا تو ڈوب جاؤ گے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ر
ریاض الدین شاہد
24 مارچ، 2019بہت خوب پروفیسر صاحب





