جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بندہ نہ جانے بندگی

کلام: عبدالغفار زاہد23 مارچ، 20191,977قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بندہ نہ جانے بندگی
پھر زندگی کیا زندگی
جس میں نہ سوزِ قلب ہو
وہ بندگی کیا بندگی
یہ عشق آساں تو نہیں
ہے امتحانِ زندگی
پوشاک اجلی ہے مگر
کردار میں ہے گندگی
کرتا ہے جس پہ ناز تو
محدود ہے وہ زندگی
اسرار کھلتے ہی نہیں
سربستہ رازِ زندگی
جس موت سے بھاگا کیے
ہے وہ تمامِ زندگی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

بندہ نہ جانے بندگی - دی فری لانسر | دی فری لانسر