جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

یہ در جس کا در ہے

کلام: عبدالغفار زاہد21 مارچ، 20191,398قارئین3 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ در جس کا در ہے
وہی در بدر ہے
عجب زندگی ہے
سفر در سفر ہے
یہ سانسوں کا بندھن
بہت مختصر ہے
گماں ہی گماں ہے
اگر ہے، مگر ہے
بڑی بے کلی ہے
سکوں! تو کدھر ہے
خزاں سے پریشاں
وفا کا شجر ہے
محبت تو اے دل!
ترا ہی جگر ہے
یہ راہِ وفا ہے
کٹھن رہ گزر ہے
مرے خیر خواہو!
مجھے سب خبر ہے
غمِ زندگی سے
نہیں کچھ مفر ہے
حقیقت سے اپنی
بشر بے خبر ہے
بنامِ محبت
ہوس اوج پر ہے
وفا، پیار، الفت
جہانِ دگر ہے
ترا دل بھی زاہد
اندھیروں کا گھر ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (3)

ع
عبدالرحمن
22 مارچ، 2019
بہترین شیخ
ع
عبدالغفار زاہد
21 مارچ، 2019
شیخ آپ کی حوصلہ افزائی میرے لیے باعثِ سعادت ہے. رفعک اللہ
ح
حافظ عبدالحسیب
21 مارچ، 2019
شاندار۔۔۔ بہت خوب چھوٹی بحر میں شعر کہنا بہت بڑا کمال ہے۔۔ آپ کا یہ رنگ بہت خوب ہے۔۔ جچتا بھی جمتا بھی ہے۔۔۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

یہ در جس کا در ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر